Start Free no paying sex chating

Free no paying sex chating

Jab me farri ki phuddi mar raha that u seemi ne uske mammay chose or uske danny ko raghra phir wo bhi seemi k mammay chosne lagi or uski phuddi me fingering krne lagi ye sab krtay hoye wo mujh se chodwa b rahi thi. Jab seemi mere oper baith kr chudwa rahi thi tu farri kabhi seemi k mammay chosti or kabhi mere tattoo ko chosti.

یہ کہانی بالکل سچی ہے لیکن اس کے تمام نام فرضی ہیں تاکہ کسی کی بھی شناخت ظاہر نہ ہوسکےمیرا نام شاکر ہے میری عمر 32 سال کے قریب ہےیہ کوئی ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے پہلے کی بات ہے ایک دن میرے کمرے میں تمام کمپیوٹرز خراب تھے اور مجھے کام کرنے کے لئے دوسرے کمرے میں جانا پڑا جہاں کام ختم کرنے کے بعد حاجی صدیق صاحب نے مجھے اپنے پاس بلا لیا اور کہا کہ کبھی ہمارے پاس بھی آکر بیٹھ جایا کریں میں نے کہا حاجی صاحب آپ چائے پلائیں تو میں آپ کے پاس بیٹھ سکتا ہوں تو ان کو جیسے سانپ سونگ گیا اچانک ان کی میز کے دوسری طرف بیٹھی ایک لڑکی نے کہا سر چائے پلا دیں گے آپ بیٹھنے والی بات کریں اس کی بات سن کر میں حاجی صاحب کی ٹیبل پر بیٹھ گیا حاجی صاحب نے بتایا کہ یہ شہزادی صاحبہ ہیں اور چند دن پہلے ہی آفس جوائن کیا ہے انہوں نے ایک معروف سیاسی شخصیت کا نام بھی لیا اور بتایا کہ یہ ان کی رشتہ دار ہیں اور ان کی سفارش کی بدولت ہی اس دفتر میں آئی ہیں میرے کان حاجی صاحب کی طرف اور نگاہیں شہزادی صاحبہ کی طرف تھی جو کسی بھی طرح سے شہزادی نہیں لگ رہی تھی بیس سال کے قریب عمر کی موٹے جسم کی مالک سانولے رنگ کی عام شکل وصورت کی مالک حجاب پہنے ٹیبل کے دوسری طرف بیٹھی ٹیلی فون پر کینٹین میں چائے کا آرڈر دے رہی تھی اس کے جسم میں ایک ہی خوبی تھی کہ اس کے ممے بہت بڑے تھے کم از کم اڑتیس سائز کے ہوں گے چائے پیتے ہوئے مسلسل اس کے مموں کے بارے میں سوچتا رہا بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ لاہور سے تین گھنٹے کی مسافت پر ایک قصبے سے تعلق رکھتی ہے اور یہاں ایک سرکاری ہاسٹل میں رہتی ہے جس پوسٹ پر اس کو دفتر میں رکھا گیا ہے اس کے لئے اس کی کوالیفکیشن بھی پوری نہیں ہے ایک دن اس نے مجھے میرے موبائل پر کال کی اور کہا کہ اس کا بھائی گھر سے آرہا ہے اس کا ایک کام کسی جگہ پھنسا ہوا ہے اگر میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو کردو میں نے حامی بھر لی تین بجے کے قریب شہزادی صاحبہ اپنے بھائی کے ساتھ میرے کمرے میں آئی اور مجھے ایک فائل پکڑا دی میں نے فائل دیکھی تو پتا چلا کہ جس شخص نے یہ کام کرنا ہے وہ میرا ایک دوست ہے میں نے اس دوست کو فون کیا تو اس نے کہا کہ کام ہوجائے گا اور یہ کام واقعی دو دنوں بعد ہوگیا اس کے بعد شہزادی صاحبہ نے مجھے شکریہ کے لئے فون بھی کیا ایک دن میں کسی کام کے سلسلہ میں دوبارہ حاجی صاحب کے کمرے میں گیا تو حاجی صاحب موجود نہ تھے شہزادی صاحبہ نے مجھے بٹھایا اور چائے منگوالی اس دوران اس سے پندرہ بیس منٹ تک گفتگو ہوتی رہی اس نے بتایا کہ ہاسٹل میں اس کی کسی بھی لڑکی کے ساتھ اتنی زیادہ دوستی نہیں ہوئی روزانہ ہاسٹل جاکر وہ رات گئے تک بور ہوتی رہتی ہے میں نے اس کو مشورہ دیا کہ اس کے ہاسٹل کے قریب ہی ایک بڑا پارک ہے وہ وہاں شام کے وقت واک کے لئے چلی جایا کرے میں بھی اکثر شام کے وقت وہیں جاتا ہوں اس نے کہا کہ میرے ساتھ جانے کے لئے کوئی بھی نہیں ہوتا حالانکہ میرا دل بھی کرتا ہے کہ شام کو واک کیا کروں میں نے فوری طورپر خدائی خدمت گار بنتے ہوئے اپنی خدمات پیش کردیں کہ میں جس وقت پارک جاتا ہوں اس وقت وہ بھی آجایا کرے تو میں اس کو واپس ڈراپ کردیا کروں گا لیکن اس نے انکار کردیا تھوڑی دیر بعد حاجی صاحب کمرے میں آگئے میں نے ان سے کام کے متعلق بات کی اور اپنے کمرے میں آگیا شام کے وقت پارک جارہا تھا کہ راستے میں شہزادی صاحبہ کا فون آگیا کہ شاکر صاحب میں آج واک کے لئے جانا چاہتی ہوں آپ کس وقت آئیں گے مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ چند گھنٹے پہلے ہی اس لڑکی نے مجھے ایک ٹکا سا جواب دیا تھا اور اب مجھے خود کہہ رہی ہے خیر میں نے اسے بتا یا کہ میں پارک تھوڑی دیر کے بعد پہنچ جاﺅں گا میں پارک پہنچا تو گیٹ پر ہی اس کے ساتھ ملاقات ہوگئی دونوں اکٹھے پارک میں گئے اور باتیں کرتے کرتے واک کرتے رہے اس دوران شہزادی صاحبہ نے بتایا کہ ان کے باپ ایک مذہبی جماعت کے ضلعی امیر ہیں اور ان کا گھرانہ بہت مذہبی ہے اس کے گھر والے اس کو دوسرے شہر میں ملازمت کے لئے نہیں آنے دیتے تھے مگر وہ ضد کرکے یہاں آئی ہے رات کو آٹھ بجے میں نے اس کو ہاسٹل چھوڑا اور خود گھر آگیا اگلے دن پھر شہزادی صاحبہ کا فون آگیا سات آٹھ دن تک میں نہ چاہتے ہوئے تھی اپنی خدمات شہزادی صاحبہ کو پیش کرتا رہااب روزانہ شہزادی صاحبہ مجھے دفتر میں ہی انٹر کام کے ذریعے پوچھ لیتیں کہ کس وقت پارک جانا ہے ایک دن میرے ایک کولیگ نے مجھے کہا کہ خوب عشق چل رہے میں نے اس سے پوچھا کہ کون سے عشق تو اس نے کہا کہ شہزادی صاحبہ کے ساتھ میں بہت پریشان ہوا اس دن میں نے واک کے دوران شہزادی کو کہا کہ میں کل سے تمہارے ساتھ نہیں واک کروں گا دفتر میں لوگ باتیں کررہے ہیں اس نے کہا کہ باتیں کرتے ہیں تو کرنے دو تم میرے ساتھ نہ ہوئے تو میں بھی واک نہیں کرسکوں گی میری روٹین خراب نہ کرو اس دن میں نے دل میں ”کچھ اور ہی“ سوچ لیا اور اس سے کہا کہ کل اتوار ہے اور دفتر سے چھٹی ہے کیوں نہ کہیں آﺅٹنگ پر چلیں اس نے فوراً حامی بھر لی میں اگلے دن صبح دس بجے کے قریب اس کے ہاسٹل چلا گیا اور اس کو گاڑی میں بٹھا کر سیدھا واہگہ بارڈر چلا گیا جہاں پر ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کا ہوٹل بنا ہوا ہے اس کا مینجر میرا دوست ہے میں نے راستے سے اس کو فون کیا کہ میں آرہا ہوں اور میرے ساتھ دفتر کی ایک کولیگ ہیں جنہوں نے شام کو فلیگ سرمنی دیکھنی ہے شام تک کمرا چاہئے اس نے کہا کہ آجائیں ہوٹل پہنچ کر ناشتہ کیا تو میں نے اٹھ کر کمرے کا دروازہ اندر سے بند کیا اور شہزادی صاحبہ کو آکر پکڑ لیااور ان کو کسنگ شروع کردی شہزادی صاحبہ نے مجھے ہاتھ سے ہٹا دیا اور کہا کہ کیا کررہے ہیں یہ کوئی اچھی بات ہے میں نے کہا کہ کچھ نہیں ہوتا تو کہنے لگی کہ یہ سب ناجائز ہے اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا مجھے بہت غصہ آیا میں نے اس کو زور زور سے دو تھپڑ رسید کردئےے اور کہا کہ روزانہ میرے ساتھ پارک میں واک کے لئے جاتی ہو وہ سب کچھ جائز ہے یہاں میرے ساتھ ایک کمرے میں ٹھہری ہو یہ سب کچھ جائز ہے روتے کہنے لگی کچھ بھی ہومیں یہ کام نہیں کروں گی میں نے کہا کہ اگر وہ یہ سب کچھ نہیں کرسکتی تو فوری طورپر یہاںسے چلی جائے میں اس کو واپس بھی نہیں لے جاسکتا یہ کہہ کر میں کمرے سے باہر نکل آیا اور مینجر سے اخبار لے کر دوبارہ کمرے میں آکر پڑھنے لگا پندرہ منٹ کے بعد شہزادی صاحبہ جو صوفے پر بیٹھی تھیں بیڈ پر میرے ساتھ آکر بیٹھ گئیں اور کہنے لگی اور کچھ نہیں مجھے صرف شرم آتی ہے یہ سن کر میں نے اس کو کہا کہ تم آنکھیں بند کرلو شرم نہیں آئے گی تو کہنے لگی کہ صرف کسنگ ہی کرنی ہے اس سے آگے کچھ بھی نہیں میں نے موقع کو غنیمت جانا اور کہا کہ میں نے اس کے ساتھ دوستی صرف اس کے مموں کی وجہ سے کی ہے یہ مجھے بہت پسند ہیں میں ان کو بھی دیکھنا چاہتا ہوں تو کہنے لگی کہ ٹھیک ہے مگر اس سے آگے کچھ نہیںمیں نے فوراً حامی بھر لی اور فوری طورپر اس کا حجاب اتارا اور اس کو کسنگ شروع کردی اس دوران پہلے تو وہ پتھر بنی رہی مگر تھوڑی دیر بعد میرا ساتھ دینے لگی دس پندرہ منٹ بعد میں نے اس کی قمیص اتاری تو کہنے لگی کمبل اوپر اوڑھ لو میں نے کمبل اوڑھ لیا اور اس کا بریزئیر بھی اتار دیا اور اس کے مموں کو چوسنا شروع کردیا اس دوران وہ کافی ہاٹ ہوگئی اور منہ سے اف ف ف ف ‘ام م م م م م ‘ س س س س س س کی آوازیں نکالنے لگی میں نے اس کی شلوار اتارنی چاہی تو اس نے پھر سے منع کردیا میں نے اس کو کہا کہ بہتر ہے آج مجھے منع نہ کرو میں نہیں چاہتا کہ تم سے زبر دستی کروں مگر تم نے مزاحمت کی تو میں زبردستی کروں گا اور یہ کام پھر بھی ہوجائے گا یہ بات سن کر اس نے مزاحمت ترک کردی اور میں نے اس کی شلوار اتار دی اس کے بعد میں نے کمبل بھی اوپر سے اتار دیا اس کے ممے بھی کیا ممے تھے میں اپنے ہاتھ اس کے جسم پر پھیر رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کے جسم کو بھی دیکھ رہا تھا وہ آہستہ آہستہ مچل رہی تھی اور میں اس کے جسم کو بغور دیکھ رہا تھا اس کے جسم پر دو جگہ تل تھے ایک دونوں مموں کے درمیان اور ایک پیٹ میں ناف کے قریب‘ اس نے ایک دو دن پہلے ہی ستر کے بال صاف کئے تھے چند منٹ میں ہی شہزادی صاحبہ آﺅٹ آف کنٹرول ہوگئیں اور مجھ کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا اور کہنے لگی شاکر کچھ کرو میں آج مر جاﺅں گی میں نے دوبارہ اس کی کسنگ شروع کردی اور اس کو مزید تڑپانے لگا وہ جنسی بلیوں کی طرح مجھے کاٹنے لگی میں نے اب اس کو زیادہ تڑپانا مناسب نہ سمجھا اوراپنے کپڑے اتار دیئے وہ میرا 8 انچ سے بھی بڑاہتھیار دیکھ کر اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیااور کہنے لگی شاکر یہ کیا کرنے لگے ہو تو میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش رہنے کی ہدایت کی میں نے اس کی کمر کے نیچے تکیہ رکھا اور ٹانگیں اوپر اٹھاکر اپنے کندھوں پر رکھ دیں اور اپنا ہتھیاراس کی چوت پر رکھ کراس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور ایک زور دار جھٹکے سے اس کو سارا کا سارا اس کی چوت میں دھکیل دیا اس کی چیخ میرے منہ میں ہی دب کر رہ گئی وہ مجھے دونوں ہاتھوں سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کررہی تھی مگر کامیاب نہ ہوسکی میں اس کے اوپر ہی لیٹا رہا تھوڑی دیر بعد اس کی مزاحمت کم ہوئی تو میں نے اس کے منہ سے اپنا منہ پیچھے کیا اور اس کو کہا کہ کیا ہوا ہے تو کہنے لگی شاکر تم نے تو مجھے مار ہی ڈالا ہے اس کو فوری طورپر باہر نکالو میں نے کہا کہ اب تم کو تکلیف نہیں بلکہ مزہ آئے گا کہنے لگی مجھے ایسامزہ نہیں چاہئے تم اس کو باہر نکالو اس دوران وہ میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش بھی کرتی رہی مگر کامیاب نہ ہوسکی اب میں نے اپنے لن کو آہستہ آہستہ سے اندر باہر کرنا شروع کیا تو اس کو بھی مزا آنے لگا ابھی پانچ منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ وہ فارغ ہوگئی مگر میں ابھی تک فارغ نہیں ہوا تھا اب اس کی چوت کافی گیلی ہوگئی تھی اور مجھے اس کو چودنے میں مزہ نہیں آرہا تھا اس لئے میں نے اپنا لن اس کی چوت سے باہر نکالا اور اس کی چوت بیڈ شیٹ سے صاف کی بیڈ شیٹ پر خون اور منی کے دھبے پڑ گئے تھے بیڈ شیٹ پر خون کے دھبے دیکھ کر وہ رونے لگی میں نے اس کو سمجھایا کہ پہلی بار ہر لڑکی کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے تو وہ چپ ہوگئی گئی اس کے بار میں نے اس کو پھر سے چودنا شروع کردیا اب وہ پوری طرح میرا ساتھ دے رہی تھی اور جب بھی میں گھسا لگاتا وہ نیچے سے اچھل اچھل کر میرا ساتھ دیتی بیس منٹ کی چدائی کے بعد میں فارغ ہوگیا اور ساری منی اس کی چوت میں ہی چھوڑ دی اب وہ نڈھال ہوکر میرے ساتھ لپٹ گئی اس دوران وہ میرے لن کو مسلسل سہلاتی رہی کچھ ہی دیر کے بعد میں دوبارہ تیار ہوگیا میں نے اس کو کہا کہ ایک بار پھر سے یہ کام کرنا ہے تو اس نے انکار کردیا میں نے اسرار کیا تو وہ تیار ہوگئی اور کہنے لگی کہ آج میں اس کام کی انتہا کو پہنچناچاہتی ہوں میں نے اس کی چوت پر اپنا لن رکھا تو چیخنے لگی کہ اب فوری طورپر لن چوت کے اندر ڈال دو میں نے ایسا ہی کیا اور تقریباً پندرہ منٹ تک اس کی چدائی کرتا رہا اب کی بار پھرمیں اس کی چوت میں ہی چھوٹ گیا اور اس کے اوپر ہی لیٹ گیا وہ بھی مکمل طورپر نڈھال ہوچکی تھی کچھ دیر ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد اس نے باتیں شروع کردیں اور کہنے لگی کہ اگر یہ بات میرے گھر والوں کو پتا چل گیا تو وہ مجھے جان سے مار دیں گے اس نے بتایا کہ اس کے گھر والوں نے فیصل آباد کے ایک وکیل کے ساتھ اس کی زبردستی منگنی کردی ہے اس نے بتایا کہ اس کی چار بہنیں ہیں جن میں سے دو بڑی بہنوں کی شادی ہوچکی ہے جبکہ دو اس سے چھوٹی ہیں جبکہ تین بھائی ہیں اس کا باپ ابھی تک اس کی والدہ کے کردار پر شک کرتا ہے اور اکثر اوقات اس کو مارتا پیٹتا بھی ہے مگر وہ اپنے باپ کے سامنے ایک لفظ بھی نہیں بول سکتی اس نے بتایا کہ اس کا باپ ان کی کسی بھی سہیلی کو گھر نہیں آنے دیتا اور ہی ان کو کسی سہیلی کے گھر میں جانے کی اجازت ہوتی ہے جب میں نے اس سے پوچھا کہ اس کے باپ نے اس کو لاہور میں جاب کرنے کی اجازت کیسے دے دی تو اس نے کہا کہ اس نے اپنی منگنی کے بعد احتجاج کے طورپر زہر کھا لیا تھا گھر والے اسے ہسپتال لے گئے ڈاکٹروں نے اس کی جان بچالی جب تندرست ہوکر گھر گئی تو اس نے گھر والوں سے کہا کہ وہ جاب کرنا چاہتی ہے پہلے انہوں نے انکار کردیا مگر جب میں نے دوبارہ زہر کھانے کی دھمکی دی تو انہوں نے اجازت دے دی اس نے بتایا کہ اس کاباپ اتنا شکی ہے کہ ہر روز ہاسٹل فون کرکے اس کے بارے میں پوچھتا ہے کہ اس کا میل جول کن لڑکیوں کے ساتھ ہے وہ دفتر سے کب آتی ہے اور کب جاتی ہے اس کے بعد ہم دونوں نے اکٹھے غسل کیا اور میں اس کو شام سے پہلے ہی ہاسٹل چھوڑ آیا اس کے بعد میری اس کے ساتھ ہرہفتے چدائی ڈیٹ ہونے لگی اس دوران اس کا حوصلہ کافی حد تک بڑھ گیا ہم دونوں ایک بار مری بھی گئے جہاں میں نے اس کی چدائی کی ویب کیم کے ذریعے فلم بھی بنا لی وہ ابھی تک میرے پاس محفوظ ہے جبکہ اس نے ہاسٹل میں جاکر اپنی ایک دوست جمیلہ جو ایک سرکاری محکمے ہے کو میرے بارے میں بتایا تو اس کو بھی مجھ سے ملنے کا اشتیاق ہوا میں نے اس کی بھی چدائی کی جبکہ چند ماہ کے بعد شہزادی صاحبہ کی شادی ہوگئی شہزادی صاحبہ کی والدہ کے ساتھ بھی مجھے ہم بستری کا موقع ملا اس کی کہانی میں ایک دور روز میں لکھ کر سب کے ساتھ شیئر کروں گا ابھی بھی اس کی ای میلز ‘ ایس ایم ایس اورفون مجھے آتے رہتے ہیں اس کی ای میلز اور ایس ایم ایس کا ایک خزانہ میرے پاس محفوظ ہے اگر کوئی اچھا دوست ملا تو اس کے ساتھ یہ بھی شیئر کرسکتا ہوں یہاں میں ایک بات بتانا بھول گیا کہ شادی سے چند روز پہلے اس نے مجھے بتایا کہ اس کو مینسز نہیں ہوئے جب ڈاکٹر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ حاملہ ہوچکی ہے میں نے اس کو حمل گرانے کا مشورہ دیا مگر وہ نہیں مانی ابھی چند روز قبل اس نے ایک بیٹے کو جنم دیا ہے اس نے بتایا کہ وہ بیٹا میری چدائی کا نتیجہ ہے اس نے مجھے اس کی تصاویر بھی ایم ایم ایس کی ہیں۔Hi, This is Rahat from Pune, India…main aapko ek story bhej raha hu.agar aap kisi ko jaatne hai koi bhi ladki ya fir aurat jo Pune ki hai aur free main mujhse chudwana chahti hai mujhe e-mail kare… Mera naam rahat hai, main proper Simla se hu, main yaha Pune mein padhta hu, meri umar 22 saal hai, mera rang gora hai aur bahut achee personality hai, main yahan pune main Paying guest hun, Main jinke yahan par rehta hun, unka naam shyam agarwal hai, unki do male ki building ha unke dusre male par main rehta hu…unke parivar main sirf 3 log hai woh, unki wife aur unki mummy hai…Unki maa ko paralysis hai…aur unki biwi to ek dum angaar hai,kya jalwe hai hai uske, dekha to lund main se wohi pani aa jaye…uskie umar sirf 19 saal hai, kamar 26, aur dhoodu to ek dam chiku ki tarah hai…Meri unse achee jaan pehchan hai, woh humesha mujhe kuch na kuch khane ko deti aur Shyam bhaibhi mujhe apne chote bhai ki tarah samjhte hai…Shyam bhai ka bahut business hai jinki wajah se unhe kafi martaba baherghumna padta hai…ghar sirf akeli unki biwi rehti hai…mujhe kuch chahiye ho to bejeezak unki biwi Sneha se maang leta hun…Main Sneha ko Sneha bhabi keh kar pukarta tha tab unhone kaha ki Sirf Sneha kaho Mujhe Sneha bhabi mat kaho, main aap dost banana chahti hu, naki devar…aur isi tarah meri Sneha se baat cheet hoti rehti , mazak, nok-zhok…usne mujhe se kaha ki main Surat ki rehnewali hu mere baap ne meri shadi Syam se paisadekhkar ki hai lekin mujhe Shyam na kabhi pasand the aur na kabhi honge…lekin bhagya ko koi badal nahi sakta…fir usne mujhse pucha kya tumhe koi girlfreind hai maine kaha nahito fir boli hilakar guzaar karte ho kya..maine pucha main samzha nahi…to usne kaha hatho se gadi chalata hunkya.mere samaz main aa gayee ke Sneha kya kehna chahti thi…maine kaha iske alawa mere pass aur koi upay bhi to nahi dheere isi tarah humari dosti badh ti gayee…Ek deen usne muhe se kaha aaj raat mere hi kamre so jao…mujhe bahut darr lag raha hai aur Syam bhi business tour ke liyebahar gaye hai…maine kaha theek hai…tab shyam ko hum saath TV dekhne lage tabhi usne unki saans khana khilaya aur mujhese kaha ki Main nahakar aati hun….maine kaha theek hai…woh nahane ke liye chalee gayee…mere man main uski gand dekhkar g kar raha mutt marlu.khayal aaya ke darwaze ke cheer se bathroom jhakar to dekhu iske jalwemaine jhakkar dekha to ek khubsurat si pari jo bilkul nangi khadi hai …manouska badan jaise malai…uski chut to ekdam gulabi aur aisee chut maine maine apne zindagi na kabhi dekhiaur na kabhi dekh sakunga…baap woh bilkul kayamat thi .socha ek pal ke liye darwaza tod du aur jaakar uski choot chat lu…maine socha syam kitna maze karta honga…uska nahana ho gaya woh ek gaon pehankar aa gayee jo pura trasparent tha…main to dekhkar pagal ho gaya…nahi usne bra pehni thi aur chaddi …usne mujhse kaha rahat ruko chay banati hu…maine kaha theek hai…usne kaha zara mere saath kitche tak to aao..mujhe dabba utarna main madad karo jismeinshakar rakhee hai..maine kaha theek..dabba bhi itni uchayni par tha ke pucho mat.mujhse kaha mujhe uthao taki main dabba utar saku…maine kaha theek hai woh mere samne peeth karke khadi ho gayeemain uski kamar pakadi …main uske pure jism ko mehsus karne laga that uski saanse bhi tez ho gayee thi…aur meri palat kar mujhse lipat gaye aur kaha ki Rahat wahan par jingoor hai…pehli baar uske duddo mere seene se lag gaye…kasam se itna maza mujhe zindagi kabhi nayee aaya tha…maine fir jhingoor mar diya aur use uthakar dabba utarne madat kar diya.maine use uthaya tha maine uske gaand pe pappi himmat hi nahi ho rahee uske sex ke baare main puchne ki…to maine chay peete peete usse puch hi liya ki shyam bhaiya ur aap to kafi khush lagte ho…tab woh mere pass chipakar sofe par baith gayee…aur kaha sach kahu shadi hui us deen unhone sirf mere hotho ko chuma …jab bhi woh ghar pe raat ko aate hai to sharab main dhoot hote hai.mere kapde kholne se pehle hiso jaate…agar kisi mere dard ke baare puchna hai to us aurat pucho shaadi hokar bhi kuwari hai.kya batau ke mera haal kaisa …hokar bhi pyasi hu…maine man socha shyam kitna bewakuf hai itni sundar aur sexy biwi ko abhi tak nahi choda…fir maine usse kaha ki Sneha meri peeth main kafi dard hai…to usne ispar jhat se kaha ki theek hai to meri tumhari body massage kar deti hu..maine kaha nahi yaarto usne force kiya aur seedhe mere shirt ke button kholne lag gayee…jab usne meri body dekhi to kaha wow kya body hai tumhari…maine kaha shukriya.phir usne mujhe kaha yeh towel leloaur apni pant aur chaddi nikal kar towel lapet lo…. Phir humne milnay ka program bnaya or mene usay pehle se decided place se pick kia or usay apne friend k khali flat pe le aya.

Mera lun full tight tha wo ghutno k bal baith kar mere lun ko suck krne lagi me maze se pagal hone laga sath sath wo thuk laga kr muth marti or phir suck krne lag jati.15 min tak wo ye karti rahi me chutne wala ho gaya tu mene usay pakar kr utha lia or usay lip kiss krne laga phir mene uske baki kapray bhi utar diye ab wo bilkul nangi thi me uske mammo ko chosne laga phir usay ghori banaya or uski gand or phuddi chatne maze se sexy awazain nikalne lagi uski phuddi me se bari meethi smell a rahi thi jo muje or pagal kr rahi mene usay seedha lataya or uski phuddi ko chatne laga wo full garam ho chuki thi or muje kahne lagi k meri phuddi ko apni zaban se fuck karo mene uski baat pe amal kia or zor zor se uski raseeli phuddi ko zaban fuck karane laga wo maze se kehne lagi k meri phuddi ka sara rus pee jao.

Phir mene uske phuddi k danne ko suck karma shoro kar dia or sath sath uski phuddi me apni 2 unglian dal k usay fuck krne laga.

Swap Your Kawasaki with A New Engine Repower your Scag, Exmark, Gravely, Toro, Lesco, or other commercial walk-behind mower with a BRAND NEW Briggs and Stratton 17.5 horsepower engine. Pro Green Plus can service all brands of ATV’s including John Deere Gators!

Here is an example of one that we just finished servicing this week.

They are located in the former location of Pro Green Plus.

Read the full story » Mower Parts just announced the opening of their retail store at 7130 Oak Ridge Highway in Knoxville, TN.

Phir usne farsh ek chadar dali aur mujhe lita diya aur ek tel lekar aagye aur dekho mujhse kaisa sharmana main to tumhari dost hu…maine kaha theek hai aur jab bhi woh thoda zhukti thi to main use dhoodh ko dekh leta tha…dil kar raha tha uske gaon fadkar uska doodu muh main le lu…usne telne mere pacho ke masla .kya maza tha kya batau tumhe…dheere usne mere thighs ko masal aur fir towel ke andhar haath dala to lund sidha khada ho gaya.lag raha mano towel main koi bada pipe rakha ho…usne dekha mere lund ko aur zhat se towel kheech liya…aur boli baapre tumhe maine abhi tak sirf chuayahai to tumhara yeh to Eiffel tower ban gaya..socho kabhi main puri nangee ho jau.tumhara kya hoga.sunkar main hairaan ho gaya aur usne mere lund par tel dala aur masalne lagee..maine kaha ab bas mujhe control nahi hotayeh kehkar main utha aur gaon seedha phad dala aur dhoodh muh main le liyeab hum dono nange uski chadar ek dusre lipte main uske gubai anarse manuke dhoodo par chusne chalu.se kamadha gata uske dhuddu ko hi chusta raha…aur fir uski chut main muh daal diya.jee bharke chata…aur fir usne mere lund ko sidha mujh main liyaboli barso se pyasi thi main lund ke liye pehli baar ek handsome ladke ka lund mila hai…woh kehte hai sabr ka fal mitha hota main tumare laund chus chus kar kha jaungi..maine kaha khalo.tumhari pyasbuja lo.boli pyasi to meri choot hai…jsime mere pati kabhi ungli tak nahi dali.maine uski choot chati aur use litaya bistar par fir dheere ungli ghusayi.chut se pani nikal raha tha…fir maine jamkar apna lund uski chut par rakha aur ghusa diya uski chut main..jaisee mera lund woh bahut chillayi…chut se khun nikalne laga…aur woh kehti chodo mujhe aur zor se chodo.meri pyas bhuja do…fir maine use har position main use chodha …apne veerya uske mujh main dal diya…Mujhe ek roop kuwari biwi mil gayee.mera khane peena ka khayal rakhtiaur kapde dhone ki bhi koi chinta nayee aur deen raat chudhayi karta hu uski.jabtak pune main hu use chodta rahunga…agar koi kamseen ladki, ya fir koi haseena,ha fir koi ladki mujhse apni pyas bujhana chahti ho aur Pune main rehti to mujhe e-mail karemain giglo nahi hu main sirf enjoy karna jaanta hu…free main..mujhe e-mail karke bataiye meri kahani kaisee hai aur koi chudwana chahta haito bhi e-mail kare…[email protected] kahani sachi age 34 hai,me Lahore me rehta hun aur mera naam aamir hai or meri girl friend ki age 25 aur uska naam seemi hai wo bhi Lahore me hi rehti hai.dono ki mulakat ik resturant me hoi aur humne ik doje se phone number exchange kia. Or phone pe hi hum itne frank ho gaye k humne khulay aam sexual batain krne lagay. Humne ander jatay hi kissing shoro kr di mene kiss kartay kartay uske mammo ko dabana shoro kr dia kyun k me us wakt mukammal madhosh ho chukka tha or muje usay kiss krne ka bara maza araha tha.